فوٹو : اسکرین شاٹ
ریاض تھہیم
اسلام آباد: وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور کیپٹن صفدر میں میچ پڑ گیا، وفاقی وزیر نے7 کیپٹن صفدر کو بار الیکشن سے دور رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ کیپٹن(ر)صفدر محترم ہیں لیکن وہ وکیل ہیں نہ ہی بار کے رکن ہیں اس لئے ان کو بار کے انتخابات اور معاملات سے دور رہنا چاہیئے.
اس حوالے سے زمینی حقائق ڈاٹ کام کی رپورٹ کے مطابق ایک ویڈیو بیان میں اعظم نذیر تارڑ نے سابق رکن قومی اسمبلی اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے شوہر کیپٹن ریٹائرڈ صفدر اعوان کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر میں ڈاکٹر نہیں تو مجھے پی ایم ڈی سی الیکشن یا معاملات پر غیر ضروری تنقید نہیں کرنی چاہیئے.
احسن بھون کی حمایت میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ احسن بھون محترم شخصیت ہیں اور ان کا وکلا برادری میں بڑا احترام ہے،گزشتہ 10سال میں احسن بھون کے گروپ نے صرف ایک یا دو دفعہ الیکشن ہارا ہے.
انھوں نے کہا کہ احسن بھون کی ساکھ یہ ہے کہ ان پر وکلا برادری کا اعتماد ہے،احسن بھو ن کے بارے میں جو گفتگو ہوئی یہ انتخابات کے دنوں میں سستا سٹنٹ ہوتا ہے،یاد دہانی کرادوں بار کا میکنزم بہت بہتر ہے، میرے ذاتی علم میں ہے احسن بھون کی ڈگری سے متعلق کوئی ایسی چیز نہیں ہے.
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اس کے باوجود پھر کہوں گا کیپٹن صفدر کا بار انتخابات سے کوئی تعلق نہیں،کیپٹن صفدر کا سپریم کورٹ بار کے آزادگروپ کے صدارتی امیدوار امجد شاہ سے ذاتی تنازعہ ہے.
اعظم نذیر نے کہا کہ کیپٹن(ر)صفدر کا امجد شاہ سے مانسہرہ میں پلاٹ کاتنازعہ ہے،سیاست کا حصہ نہ بنائیں،مسلم لیگ ن لائرز فورم نے امجد شاہ کی حمایت کا اعلان کر رکھا ہے،جب بھی میڈیا پر بیٹھیں اپنی زبان پر بہت کنٹرول ہونا چاہیئے.
وفاقی وزیر قانون نے خیبر پختونخواہ میں ایمرجنسی یا گورنر رول کے نفاذ سے متعلق بھی گفتگو کی اور کہا کہ ایمرجنسی کے اطلاق پر آئین بہت واضح ہے،اگر ایسے حالات ہوں کہ آئین تقاضا کرے کہ ایمرجنسی لگے تو بلکل لگنی چاہیئے.گورنر راج کیلئے آئین میں درج ضروریات ہیں وہ پوری ہوئی تو بلکل یہ سب ہو گا.